Adrak ke fayde ادراک کے فائدے


 


ہاں، ادرک آٹو امیون امراض میں مبتلا افراد میں سوزش کو قابو کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ ادرک میں بائیو ایکٹو مرکبات پائے جاتے ہیں جو سوزش کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں، جیسے کہ جینجرول اور شوگاول۔ ان مرکبات کے سوزش کو کم کرنے کے اثرات آٹو امیون بیماریوں میں ہونے والی سوزش کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔



ایک مطالعہ میں، ادرک کے رس کو روزانہ 600 ملیگرام کی مقدار میں لےنے والے آٹو امیون بیماریوں سے متاثرہ افراد میں سوزش کی علامات میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ مطالعے میں شامل افراد میں روماتیزم، رمیٹائڈ آرتھرائٹس، اور ٹائپ 1 ذیابیطس شامل تھے۔


ایک اور مطالعہ میں، ادرک کے رس کو روزانہ 300 ملیگرام کی مقدار میں لےنے والے ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں میں سوزش کی علامات اور سی ریکٹیو پروٹین (CRP) کی سطح میں کمی دیکھی گئی۔ CRP ایک پروٹین ہے جو جسم میں سوزش کے جواب میں پیدا ہوتا ہے۔



ادرک کو آٹو امیون بیماریوں کے علاج کے لیے ایک محفوظ اور موثر علاج کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، زیادہ مقدار میں ادرک لینے سے پیٹ کی خرابی جیسے ضمنی اثرات ہو سکتے ہیں۔



ادرک کے علاوہ، آٹو امیون امراض میں قوت کو بڑھانے کے لیے کچھ دیگر قدرتی علاج بھی موجود ہیں۔ ان میں شامل ہیں:



زیادہ سے زیادہ پھل اور سبزیاں کھائیں۔ پھل اور سبزیاں وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس کا ایک بہترین ذریعہ ہیں جو سوزش کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ صحت مند وزن کو برقرار رکھیں۔ زیادہ وزن سوزش کو بڑھا سکتا ہے، لہذا آٹو امیون بیماریوں کے مریضوں کے لیے وزن کم کرنا ضروری ہے۔ باقاعدگی سے ورزش کریں۔ ورزش سوزش کو کم کرنے اور قوت کو بڑھانے میں مدد کر سکتی ہے۔ اچھی نیند حاصل کریں۔ نیند سوزش کو کم کرنے اور قوت کو بڑھانے میں مدد کر سکتی ہے۔ ماحولیاتی ٹاکسن سے بچیں۔ 



ماحولیاتی ٹاکسن سوزش کو بڑھا سکتے ہیں، لہذا آٹو امیون بیماریوں کے مریضوں کو ان سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ 


اگر آپ کو آٹو امیون بیماری ہے، تو آپ اپنے ڈاکٹر سے بات کریں کہ آپ کے لیے کون سے قدرتی علاج بہترین ہیں۔



No comments

Powered by Blogger.